ڈونٹسک عوامی جمہوریہ کا پانچواں یوم آزادی

12.05.2019

گیارہ مئی کو ڈونٹسک شہر کے وسط میں چالیس ہزار سے زائد شہریوں نے اپنا پانچواں یوم آزادی جوش و خروش سے منایا۔ گھر کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھابڑے پیمانے پر فوجی پریڈ کا بھی اہتمام کیا گیا، اس پریڈ میں دوسری جنگ عظیم کے فاتح ہیروز نے بھرپور شرکت کی۔ نازی ہٹلر کو شکست دینے میں میں اس شہر کے باسیوں کا ایک تاریخی کردار ہے، اگرچہ نازی ازم کی شکست کو 74 سال کا عرصہ گزر چکا ہے ہے لیکن یہاں کے باسی ابھی نازی اور فاشسٹ سوچ رکھنے والوں کے خلاف برسر اقتدار ہیں۔

پانچ سال پہلے یوکرائن میں خانہ جنگی کے نتیجے میں دو بڑے شہروں ڈونٹسک Donetsk  اور لوہنسک Luhansk کے شہریوں نے نے یوکرائن سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کرایا عوام کی بھاری اکثریت نے ریفرینڈم کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے 11 مئی کو مشرقی یوکرائن میں دو آزاد ریاستوں کی بنیاد رکھی۔ دراصل اس آزادی کی وجہ یو کرائن میں امریکا اور نیٹو کی جانب سے سے روس مخالف حکومت کی تنصیب تھی۔ امریکہ نواز این جی اوز اور تنظیموں نے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے روس مخالف جذبات کی ترویج کی۔ جب لاوہ مکمل پک چکا تھا تو روس کی حمایتی حکومت کا تختہ الٹ کر مغرب نواز کٹھ پتلی حکومت کو مارشل لاء کے ذریعے نصب کیا۔

2014 میں میں روس مخالف حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی روسی زبان بولنے والوں پر قہر ڈھا دیا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ روس میں پچاس فیصد سے زائد لوگ روس کے حمایتی ہیں اور یوکرین کا ہر چوتھا گھر خاندانی طور پر روسی زبان بولنے والوں سے جڑا ہوا ہے۔ دراصل یوکرائن میں بہنے والے ڈائنا پر دریا کے کنارے ہی روسی تہذیب نے جنم لیا۔ یوکرائن کا موجودہ دارالحکومت کیو Kiev پہلی روسی سلطنت کا دارالحکومت تھا اور صدیوں تک یہ روس کا ہی حصہ رہا سویت یونین کے دور میں اس کو الگ شناخت ملی اور پھر سویت یونین کے انہدام کے موقع پر یوکرائن ایک الگ ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا لیکن اس کے باوجود یوکرائن میں ہمیشہ روس کی حمایت یافتہ حکومت برسراقتدار آتی رہی۔ 

دراصل سرد جنگ کے خاتمے کے وقت دیوار برلن جب گرائی گئی تو روس کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ نیٹو کو مشرق کی طرف یعنی روس کے پڑوس میں بالکل توسیع نہیں دی جائے گی لیکن افسوس اپنے وعدے پورے کرنے کی بجائے مغرب میں بیٹھے لوگوں نے امریکہ کی حمایت سے روس کے ساتھ کشیدگی کا راستہ اختیار کیا اور نیٹو کو توسیع دیتے ہوئے اسے روس کے بارڈرز تک لے آئے۔ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کی وجہ سے ہی اس خطے میں نئے تنازعہ نے جنم لیا روس کی حمایت یافتہ حکومت یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کے خلاف تھی اس لیے وہاں پر مارشل لاء لگا کر مغرب نواز حکومت بیٹھا دی گئی جس نے روس کے حمایتوں پر جنگ نافذ کردی اس وجہ سے یوکرائن کے اندر خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔

مشرقی یوکرائن میں روس نواز باغی مضبوط ہوگئے جبکہ مغرب میں امریکہ اور نیٹو کے حمایت یافتہ برسراقتدار آئے اور اس طرح یوکرائن تقسیم ہوگیا مشرقی یوکرائن میں ایک تاریخی خطہ جسے Donbass کہا جاتا ہے یوکرائن سے مکمل آزاد ہو گیا۔اب اس خطے میں عوامی جمہوریہ ڈونٹسک اور عوامی جمہوریہ لوہنسک مل کر ایک فیڈریشن کی تشکیل کی خواہاں ہیں۔ ان دونوں ریاستوں نے گیارہ مئی کو یوکرائن سے آزادی کا بھرپور جشن منایا۔ تاہم یہ ابھی بھی یوکرائن کی فوجوں کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر روس کی جانب سے ان دونوں ریاستوں کے باشندوں کے لیے روسی شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو بہت آسان بنا دیا گیا ہے یعنی اب مشرقی یوکرائن کے لوگ روسی پاسپورٹ بہت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں اور ان کی خواہش بھی یہی تھی کیونکہ متعدد مواقع پر ان ریاستوں کے سربراہان کی جانب سے روس کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اب ان ریاستوں کے باسی باآسانی روس کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم اس خطے میں ابھی جنگ رکی نہیں کیونکہ امریکہ اور نیٹو، یوکرائن کے ذریعے روس کے بارڈر پر اپنی فوج تنصیب کرنا چاہتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت روس کی مکمل ناکا بندی کی جا سکے اور ایسا روس کو ہرگز پسند نہیں اور وہ بھی اپنے طور پر اس مغربی سازش کا توڑ کر رہا ہے روس کو یہاں پر نیٹو اور امریکہ سے برتری حاصل ہے ایک بڑی جنگ کی صورت میں روس نیٹو کو مکمل شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس لیے نیٹو روس سے براہ راست لڑنے کی بجائے غیر روایتی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ہائبرڈ جنگ کا سہارا لے رہی ہے لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ فاتح کون ہے۔