یوریشین اقتصادی یونین کونسل کا اجلاس

30.05.2019

قزاقستان کے دارالحکومت میں بدھ سے باضابطہ طور پر یوریشین اقتصادی یونین کونسل کے اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے۔ صدر روس ولادیمیر پوتین اور قزاقستان، آرمینیا، بیلاروس اور کرغزستان کے سربراہان مملکت محل آزادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس کا انعقاد اسی محل میں ہورہا ہے۔ اس اجلاس کو یورشیںن اقتصادی یونین کے معاہدے کی پانچویں سالگرہ کے نام کیا گیا ہے جبکہ اس یوریشین اقتصادی یونین کے مرکزی خیال کی پچیسویں سالگرہ بھی منا جارہی ہے۔

ایجنڈا

مقامی ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی انضمام، بین الاقوامی اقتصادی تعاون،تجارت، کسٹم کے قواعد و ضوابط،مقابلہ سازی کے ساتھ ساتھ اقتصادی یونین کی ریاستوں کی معاشی ڈیجٹلائزیشن بھی شامل ہے۔ اجلاس میں اگلے دو سیزنز کے لیے ممبر ممالک کی بڑی اقتصادی پالیسیوں کی سمتوں کا بھی تعین کیا جائے گا۔ یونین کی مشترکہ بجلی مارکیٹ کی تشکیل کے معاہدے کو بھی اپنایا جائے گا۔ اور اس کے علاوہ تجارتی اشیاء و خدمات کے لیے آزادنہ منڈی سے متعلقہ دستاویزات پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

پس منظر

یوریشین اقتصادی یونین بین الاقوامی معاشی انظمام کی تنظیم ہے جس کا مقصد کونسل میں شامل ممالک ملک کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ہوئے ان کے درمیان معاشی تعاون میں مظبوطی لانا ہے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مشترکہ طور پر سبقت لے سکیں۔ ابتدائی طور پر انیس سو پچانوے میں روس،  بیلاروس اور قزاقستان نے کسٹمز یونین کی بنیاد پر مشترکہ انضمامی معاہدے اختیار کیا۔ اس کے بعد یونین میں آرمینیا اور کرغیزستان بھی شامل ہوگئے۔ حالیہ شکل میں یہ یونین 2014 میں دنیا کے سامنے آئی۔ سابقہ کسٹمز یونین میں بہتری لا کر ممبر ممالک کے درمیان مربوط معاشی تعلق کو مزید گہرا کیا گیا تاکہ آزادانہ تجارت اور ممبر ممالک کے درمیان اشیاء و خدمات کی منڈی میں مقابلہ سازی کو فروغ دیا جائے۔ دراصل یہ یوریشین اقتصادی یونین، یک قطبی امریکی گلوبلائزیشن اور یورپی یونین میں یورپی کمیشن کی آمریت کی متبادل ہے کیونکہ اس کی بنیادہی کثیر قطبیت پر استوار کی گئی ہے اور اس میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اقتصادی یونین کے ممالک نے معاشی تعاون کے قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں۔ انضمام سے بڑے پیمانے پر مثبت معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس میں نئے ممالک کی شمولیت سے منڈی میں مقابلہ کی فضا قائم ہوئی اور اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی اور نتیجے کے طور پر ممبر ممالک کی عوام کی فلاح و بہبود ہوئی (برآمداتی اشیاء یا خام مال کی قیمتوں میں کمی ہوئی)۔ بعد ازاں شہریوں کی اجرت میں اضافہ ہوا اور اشیا کی طلب میں اصافہ کی وجہ سے پیدواری میں بھی اضافہ ہوا۔