ہمیں نئے سیاسی نظریے (چوتھے سیاسی نظریے)کی ضرورت کیوں ہے؟

03.10.2019

آج ہم نہ صرف عالمی طاقت کے توازن میں جغرافیائی سیاست کی ( یک قطبیت سے کثیر قطبیت کی طرف) منتقلی بلکہ گہری نظریاتی تبدیلیوں کی بھی معاونت کررہے ہیں۔ واضح طور پر مشرق وسطیٰ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف امریکا،  اسرائیل اور یورپی یونین کا ابھی تک کتنا اہم کردار ہے۔  اور دوسری طرف چین اور روس کی خطے میں موجودگی کس طریقے سے حالات میں تبدیلیاں لارہی ہے۔ اور کیسے مختلف اسلامی ممالک اور اسلام میں مختلف رجحانات ایک دوسرے کے حلیف یا حریف ہیں۔ پس اس لیے جیو پالیٹکس کے پیچھے نظریاتی اور بسااوقات مزہبی سمتیں کار فرما ہیں اور ہم مزید قومی ریاستوں کی مقابلہ بازی یا پھر مشرق و مغرب کی  نظریاتی مخالفت سے مسائل کو کم نہیں کرسکتے۔ ہمیں نئے حربوں کی ضرورت ہے جو ہمیں جغرافیائی سیاست کے نقشے پر نظریاتی بنیادوں اور منصبوں کا مکمل ادارک فراہم کریں۔ ہمیں بلاشبہ دنیاوی خلا کی نئی قسم کی نقشہ جاتی حد بندی کی ضرورت ہے۔ بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جہاں اہم رجحانات کی اب ازسرنو تعریف کی گئی ہے۔

یک قطبیت سے کثیر قطبیت کی طرف منتقلی خصوصی طور پر امریکہ کے لیے تکلیف دہ ہے کیونکہ یک قطبی ورلڈ آرڈر کے قطب کا خاتمہ اب مسلمہ حقیقت بن چکا ہے۔    نیوکونز وہ تھے جنہوں نے براہ راست امریکی اجارہ داری کو مابعد سرد جنگ کے قانون کے طور پر دنیا میں مسلط کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش1991 سے لیکر 9/11 (2000) تک تقریباً یک قطبی لمحہ (Ch.Krautammer) تک پہنچ چکی تھی۔نیوکنزرویٹوازم نظریہ لبرل ازم (لبرل جمہوریت، انسانی حقوق، پارلمینٹیرن ازم، سیکولرازم) کی حاکمیت کا اساس تھا، لیکن اضافی طور پر اس میں غیر مشروطانہ اسرائیل کی حمایت، اسلام اور سابقہ سپر پاور روس کی طرف مخصوص نفرت، اور امریکہ کی دنیا پر حکمرانی شامل تھی۔ کلنٹن اور بش انتظامیہ مکمل طور پر نیوکونز کے از سر تھی۔ 9/11 کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ اب ان کا وقت آچکا ہے اور انہوں نے افغانستان اور عراق میں مداخلت پر مجبور کیا۔ اسی لمحے گریٹر مشرق وسطیٰ کے منصوبے کی ابتدا ہوئی جو مشرق وسطیٰ میں گہرے جمہوری اقدار کے فروغ پر مبنی تھا، جس کا مطب سیاسی حکومتوں کی پرتشدد تباہی، اختیارات کے توازن، سرحدی خطوط اور اس طرح کی دیگر چیزیں تھا۔ اسرائیل کے کردار کی بڑھوتری اور کرد ریاست کے قیام کی شروع میں ہی پیشنگوئی کردی گئی تھی۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم 2000 کے آغاز میں تھے: سیاسی جغرافیائی یک قطبیت اور اٹلانٹک ازم، نظریاتی طور پر – مشرقی مرکز میں لبرل ازم کی جارحیت (حملہ)۔

اوبامہ نے نیوکونز کی لائن میں اعتدال پسندی لاتے ہوۓ اس کے کچھ سخت گیر نکات کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے بھی ان کے نظریہ کے مطابق ہی کام کیا۔ بیان بازی کے زریعے اس نے کثیرالجہتی کی بات کی جو کہ ہیجانی خصوصیات سے مبرا یک قطبیت کا ہی ایک ورژن تھا۔ جس کے نتیجے میں عرب سپرنگ آیا اور جس نے شمالی افریقہ میں بد امنی کو ترویج دی اور لیبیا سے یمن، عراق، شام ( بشمول مصر اور ترکی میں مارشل لا آمریت، یا اس کی کوششوں کے).  اوبامہ نے امریکی سیاست کی سمت نہیں بلکہ اس کی رفتار کو تبدیل کیا۔ نظریاتی طور یہ بالکل ویسے ہی تھا لیکن بس مغربی مرکزیت والی لبرل ازم نیوکونز کے کیس کے مقابلے میں کم جارحیت کی حامل تھی۔  اسرائیل کے لیے پہلے کی طرح بڑے پیمانے پر تو نہیں لیکن حمایت پھر بھی جاری رہی۔

جارج بش جونیئر سے لیکر اوبامہ کی حکمرانی تک بہت اہم جیو پولیٹیکل رجحان تھا – تاریخ میں پیوٹن کے روس کی واپسی ہوئی۔ اور یہ یک قطبیت کے لیے ایک سنجیدہ اور فیصلہ کن چیلنج تھا۔ جوہری روس اپنی مکمل سالمیت کے ساتھ بہت اہم تھا۔ جارجیا، یوکرائن، کریمیا کا الحاق اور روس کی شام میں آمد عالمی اہمیت کے حتمی اقدام تھے۔ پیوٹن نے خود کو ایسے پیش کیا کہ جیسے دنیا پہلے سی ہی کثیر قطبی ہو اور یہ ماسکو کے طرز عمل کے بعد کثیر قطبیت میں تبدیل ہوجاۓ گی۔ اور اس نے ہر چیز کو تبدیل کردیا۔ جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی طور پر اس تبدیلی نے ایران کو مغربی تسلط سے نجات کی جدو جہد کو تقویت دی۔ ترکی نے امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور آزاد و خود مختار کرد ریاست کے قیام کے روکنے کے لیے روس کی قربت حاصل کی۔ اسد کے لیے روس کی شام میں آمد فیصلہ کن تھی۔ بغداد کے پاس امریکہ پالیسی کا متبادل روس کی صورت میں آگیا۔ چین نے اسی لمحے بیلٹ اور روڈ پراجیکٹ کے زریعے خود کو علاقائی طاقت کے طور پر تسلیم کروایا۔ پیوٹن کی مظبوط سیاست کی فوری طور پر حمایت کرتے ہوۓ  مشرق وسطیٰ کے تمام کھلاڑیوں نے اپنی سیاست کو نئی کثیر قطبیت کے خاکے سے ہم آہنگ کرلیا۔ یہ منتقلی امریکہ، یورپی یونین اور مغربی پراکسیوں – سعودی عرب اور قطر کے خرچ پر کی گئی جو کہ ریاض اور دوحہ کے سلفی باغی (یعنی کہ داعش) کی حمایت کررہے تھے اور ان کو نئے روس-ترکی-ایران اتحاد نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اسرائیل بھی تھوڑا بہت رک گیا اور خصوصی طور پر گریٹر کردستان اور عمومی طور گریٹر مشرقِ وسطیٰ پراجیکٹ متروک ہوا۔

یہ بالکل وہی لمحہ تھا جب ٹرمپ برسرِ اقتدار ہوا۔ وائٹ ہاؤس کے راستے ان کا بیانیہ اپنے تمام پیش رو افراد کے لیے بہت اہم تھا: جیوپالیٹکس میں (ٹرمپ نے خود کو انسداد جنگ کا ماہرقرار دیا تھا اور ویسے بھی ابھی تک اس نے کوئی جنگ جنگ شروع نہیں کی، جیسا کہ وہ کلنٹن، بش اور "خونی کبوتر" اوبامہ سے بالکل متضاد ہے) اور نظریاتی طور پر ( لبرل ازم اور عالمگیریت پر کڑی تنقید کرتا ہے). لہذا 2016 کا سال انتہائی کلیدی تھا۔ جہاں یک قطبیت، اٹلانٹک ازم اور عالمگیر لبرل ازم نے اپنی کمزوریاں ظاہر کیں جسے سے ان کا زوال ظہور پزیر ہوا اور کثیر قطبیت اپنی شکل لینا شروع کی۔ ظاہر ہے کہ ٹرمپ امریکیوں سے ، جنہوں نے انہیں منتخب کیا اپنے وعدے پورے نہ کرسکے۔ لیکن اس کی سیاست شدت پسند عالمگیریت، یک قطبیت اور لبرل ہر گز نہیں، اس کی سیاست بالکل ایسی نہیں جس کا آغاز اس کے پیشرو حکمرانوں نے ووڈرو ولسن سے مل کر کیا تھا۔ امریکہ ابھی تک یہاں مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور اسرائیل کے لیے اس کے تعاون میں اصافہ ہوا ہے۔ اسلام کے خلاف خلاف دشمنی برقرار ہے لیکن....اس سارے معاملے میں بالکل ایک نیا کن ملان ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے امریکہ اپنی منشا کے بر خلاف کچھ حدتک اپنی اجارہ داری سے دستبردار ہوکر پیوٹن کے روس، اس کے اتحادیوں اور چینی ترقی سے وجود میں آنے والے کثیر قطبی "سٹیٹس کو" کو تسلیم کررہا ہے۔

اس جیو پولیٹیکل اور نظریاتی تبدیلی میں روس نے اہم اور گرانقدر کردار ادا کیا ہے۔  سویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی لمحہ میں صرف لبرل ازم کے نظریے کو عالمی نظریہ کے طور پیش کیا گیا۔ اور اب مغرب کے سرکاؤ میں یہی لبرل ازم ہی کار فرما ہے۔ لہزا یک قطبی دنیا میں صرف لبرل ازم کو ہی پوری کائنات پر مسلط کیا گیا۔ منطقی طور پر کثیر قطبیت کو دوسری صورت میں ہونا چاہے۔ تو سوال یہ ہے کہ: ہم نظریاتی طور پر کہاں ہیں؟

سیاسی جدت میں جہاں مغرب کی اجارہ داری تھی وہاں پر لبرل ازم کے صرف دو متبادل تھے: کمیونزم اور نیشنلزم (فاشزم). دونوں بیسویں صدی میں فتح یاب ہوئے اور اس کے نتیجے میں شکست لبرل ازم کے عالمی یک قطبی لمحہ پر مبنی تھی۔ اگر نہ صرف غیر مغربی خطوں میں بلکہ خود امریکہ میں بھی لبرل ازم سکڑ جاتی ہے تو وہاں بہت بڑا خلا ظاہر ہوگا۔ یہ واضح ہے کہ اس خلا کو پر کرنے کے لئے پرانے مغربی جدت والے نظریات – پہلے سے اسٹبلش کردہ دو نظریات کیمونزم اور فاشزم کی صورت میں مسلط کرنے کی کوشش ہوگی – ان میں نہ ہی کوئی چاشنی ہے اور نہ یہ اب دوبارا قابل قبول ہیں۔ لہذا ہم بہت دلچسپ صورتحال میں ہیں:   جدیدیت کے تین کلاسیکل نظریات میں – 1 لبرل ازم، 2 کیمونزم، 3 فاشزم --- ہم ان میں سے کسی ایک کا بھی انتخاب نہیں کر سکتے۔ ہمیں نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ چین اور مغربی ممالک کے علاوہ – روس، ایران، ترکی ، عرب ممالک اور اس طرح کی وہ تمام قوتیں جو مشرق وسطیٰ میں فعال طور پر متحرک ہیں – وہ تمام نہ تو لبرل، نہ کیمونسٹ اور نہ ہی فاشسٹ ہیں۔ لہذا نظریاتی خلا کو پر کرنا اتنا آسان نہیں۔

یہاں مرکزی سوال یہ پوچھا جاتا ہے: کہ ایک ہی وقت میں نہ کمیونسٹ ہو اور نہ فاشسٹ تو پھر غیر لبرل ہونا کیسے ممکن ہے۔ عملی طور پر ہمارے پاس ایرانی سیاسی نظام، پیوٹن کی آمرانہ حکمرانی اور اردگان کی حقیقت پسندی موجود ہے۔ لیکن وہ – ایران کے استثنا کے ساتھ -- صورتحال ٹھوس سیاسی حالات پر منحصر ہے۔ لبرل ازم انخلا کے باوجود ایک مکمل نظریہ ہے۔ اگرچہ معدومیت اور کمزوری کے باوجود یہ ایک طاقتور نظریہ ہے اور اس کے خلاف محض عارضی اور دانشمندی سے عاری عملی اتحاد، کثیر قطبیت کے لیے نقصان دہ اور ہماری عظیم فتح کو لبرل ازم کی فتح میں تبدیل کرنے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ حقیقت پسندانہ اتحاد صرف اور قومی مفاد پرستی پر مبنی ہوتے ہیں جو کہ غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ ان پر پائیدار عالمی ورلڈ آرڈر کی ٹھوس بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔

ان آسان اور تقریباً واضح شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں نئے سیاسی نظریے کی ضرورت ہے جو تاریخ کے تقاضوں، کثیر قطبیت اور ابھرتے نئے بین الاقوامی تعلقات کے سانچے میں مکمل فٹ آۓ۔ یہ بالخصوص چوتھا سیاسی نظریہ ہونا چاہے، کیونکہ پہلا سیاسی نظریہ لبرل ازم ہے جس سے ہم پہلے ہی چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسرا سیاسی نظریہ کمیونزم اور تیسرا نظریہ فاشزم ہے جو کہ قابل شاہد وجوہات کی بناپر ناقابل قبول ہیں۔ تو ہمیں چوتھے سیاسی نظریے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جدید مغربی سیاسی فکر میں ایسا کوئی نظریہ نہیں۔ اس کا ایک ہی منطقی جواب ہے کہ : ہمیں ایسے نظریے کو تشکیل دینےکی ضرورت ہے جو مشترکہ طور پر کثیرقطبی دنیا کے تسلط میں کردار ادا کرے اور سب کے تاریخی، مزہبی، ثقافتی اور تہذیبی اختلاف کو قبول کرے۔ یہ نظریہ نہ مغربی ہوسکتا ہے اور نہ جدید تو اس کو ایسا ہی رہنے دو۔ ہم غیر مغربی اور قبل از جدید (روایتی) یا بعد از جدید نمونے پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ اسلام کے حوالے سے یہ نسبتاً آسان ہے اور ایرانی نظریہ پہلے سے ہی اس کی تیار شدہ سیاسی مثال ہے جسے شیعہ مسلمانوں کے لیے چوتھا سیاسی نظریہ تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں روس کے لیے بھی کچھ ایسا ہی درکار ہے--  روس کا چوتھا سیاسی نظریہ آرتھوڈوکس عیسائیت، بازنطین ازم اور یوریشین روایات پر منحصر ہے۔ بالکل یہ وہی پروجیکٹ ہے جس پر میں گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے کام کررہا ہوں۔ لیکن یہی خدشات صرف ترکی، عراق، شام، لبنان اور تمام عرب کاونٹیز کے ہی نہیں۔ کثیر قطبی دنیا میں ہر ملک اور ہر ریاست، ہر شخص اور ہر مذہب کو اپنی شناخت کی توثیق کرنے اور لبرل ازم و عالمگیریت کے خلاف مزاحمت کرنے کا اپنا راستہ تلاش کرنا چاہے۔ یہ دونوں مغربی اجارہ داری کی دوشکلیں ہیں۔ یہ سکڑنے، لرزنے اور جھولنے کے باوجود ابھی تک موجود ہیں۔ لہذا چوتھا سیاسی نظریہ آفاقی نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں اختلافات کی گنجائش موجود ہونی چاہے لیکن کچھ تجاویز کے ساتھ – اس کو لازمی طور پر اجتماعی اور کثیر مرکزی ہونا چاہیے کیونکہ یہ کسی بھی نظریہ کے لیے بہت ضروری ہیں۔ یہ مشقت کا کام ہے کہ کوئی نہیں کرسکتا لیکن تمام انسانی تہذیبوں کے بہترین دماغوں کو اپنی روایات، شناخت – ماضی اور مستقبل پر فخر ہے۔

نوٹ: الیگزینڈر ڈوگن کی اس فکر انگیز تحریر کا ترجمہ طیب بلوچ نے کیا ہے۔