اجلاس کی تفصیلات: تاریخ پر سنسرشپ

14.06.2019

13جون 2019 کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما اور جاپان کے وزیراعظم کی ملاقات دو وجوہات کی وجہ سے اہمیت کی حامل ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس ملاقات سے تین دہائیوں پر محیط روایتی سنسرشپ کا خاتمہ ہوا۔ یقیناً جاپان کے وزیراعظم امریکی صدر کا ایرانی رہنما کے لیے پیغام لائے تھے اور یہ پیغام ایران کے رہنما کے گوش گزار بھی کیا گیا۔ یہاں اس پیغام کا جواب ایرانی صدر یا وزیر خارجہ کے رد عمل سے یکسر مختلف اور انتہائی طاقتور تھا۔ یہ امریکی صدر کے لیے ایک تنبیہ تھی جو عمومی طور پر اندرونی اور خارجی امور سے لاعلم رہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر کو خود ایسے ردعمل کی امید نہ تھی۔

تحریری خط تو نہیں ملا لیکن جاپانی وزیراعظم نے زبانی طور پر ایرانی رہنما کو مکمل صورتحال سے آگاہ کیا اور تفصیلی پیغام انہیں پہنچایا۔ ایرانی کیسے اس شخص پر اعتماد کر لیں جس نے پانچ سال کی کاوش کے بعد ہونے والے معاہدے کو ختم کردیا جسے بہت احتیاط کے ساتھ مرتب کرکے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیاتھا ؟ تاہم دنیا کے بہت سارے صحافی اس کو دیکھ نہ پاۓ۔ ایسا سنسرشپ کی طویل روایت کے سبب تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 32 سال پہلے وہ بطور صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گئے۔

کسی نے اس کا نوٹس نہیں کیا لیکن یہ ایک دلچسپ حکایت ہے کہ 23 ستمبر 1987کو نیو یارک ٹائم نے شائع کیا تھا کہ خلیج فارس کے مغربی پانیوں میں ایرانی جہاز پانی میں بارودی سرنگیں بچھاتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ یہ ایک حملہ تھا جس میں تین ایرانی جہازرانوں کو قتل اور 23 کو قید کر لیا گیا. ایران نے پانی میں بارودی سرنگوں کی مکمل طور پر تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کوئی غلط اقدام نہیں کیا جبکہ وہ اس وقت صدام کے ساتھ حالت جنگ میں تھا۔ اور ایران نے امریکیوں کی وہاں پر موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس جگہ پر وہ کیا کر رہے تھے۔ ڈرامائی موڑ عین اس وقت آیا جب ایران کے صدر آیت اللہ خمینی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے تو ایرانی کشتی کا پیچھا کرنے والے امریکی نیوی کے ہیلی کاپٹر نے اس پر حملہ کر دیا۔ امریکی حمایت یافتہ صدام کے ساتھ ایرانی جنگ کا یہ نقطہ عروج تھا۔ ایرانی صدر نے مہم جوئی کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کیوں صدام جیسے آدم خور کی حمایت کر رہا ہے۔

آرکائیوز نیویارک ٹائمز صفحہ 00001, (23ستمبر 1987)

"اقوام متحدہ میں آیت اللہ خمینی کی تقریر کو مکمل طور پر زائل کردیا گیا۔ انہیں نہیں سنا گیا۔ ایران کا اپنے پانیوں کو بیرونی مداخلت سے بچانے کا عظیم جرم اقوام متحدہ میں اس کی تقریر پر غالب آگیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے ہر ادارے نے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی شہ سرخی شائع کی۔ یہاں بیک وقت حملہ اور تقریر قابل ذکر ہے۔"

 

جاپانی وزیر اعظم کی ایرانی رہنما سے ملاقات سے دو روز قبل اسی منظر نامے کو دوبارہ دہرایا گیا۔ دو تیل بردار جہازوں  پر پراسرار حملے کی چہ میگوئیاں پورے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھیں اور اس اہم ملاقات کی تفصیلات کو کوئی خاص اہمیت نہ دی گئی۔ ٹرمپ سے متعلق ایرانی رہنما کے ردعمل کی حقیقی سٹوری کو اس منظر کے ذریعہ مسخ کر دیا گیا۔

 

ایرانی رہنما پر اس طرح کی سنسرشپ کو متعدد مواقع پر دہرایا گیا ہے جس کو اب میں بھی نظر انداز کر رہا ہوں کیوں کہ نقطہ نظر واضح ہو چکا ہے۔