کیا ایشیا میں نئی جنگ ہوگی؟

16.06.2020

ایشیا کےقلب میں ایک بڑا فوجی تنازعہ جنم لے رہا ہے۔اس سےیا تو کچھ بھی نہیں ہوگا، یاپھر یہ چار ممالک کو متاثر کرے گا۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ملوث ممالک کے خلاف کاروائیاں کتنی جائز ہیں اوریہ کہ دوسرے ممالک کی خطےمیں امن کےلیے کیا کاوشیں ہیں۔
 
23 مئی کو ، یہ اطلاع آئی کہ چینی عوام کی لبریشن آرمی (PLA) نے 5،000 فوجیوں کو لداخ کے پہاڑی علاقے میں منتقل کیا ہے۔ یہ کوئی بالکل نئی پیش رفت نہیں ، چونکہ یہ متنازعہ علاقہ ہے، چین اور ہندوستان دونوں وقتاً فوقتاً اس علاقے میں گشت کرتے رہے ہیں۔ ہمالیہ کے دوسری طرف یعنی سکم میں بھی کشیدگی کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر جون 2017 میں ، ہندوستانی فوجیوں نے سرحد عبور کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھوٹان میں جہاں چینی سڑک بنا رہے تھے وہاں پر پر موثر انداز میں حملہ کیا۔

 تاہم ، بین الاقوامی معیار کے مطابق ، موجودہ مثال ماضی کی نسبت زیادہ نمایاں ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے مابین کارگل جنگ کے بعد سے (کارگل جنگ کے دوران امریکی دباؤ پر ، بالآخر پاکستان اس سے دستبرداری پر مجبور ہوا تھا) غیر ملکی فوجیوں نے ہندوستانی سمجھے جانے والے علاقے پر حملہ کیا ہے . فوجیوں کی نقل و حرکت کی نوعیت کا جائزہ لیا جاۓ تو چینی فوجیوں کی طرف سے دراندازی ایک واضح حکمت عملی کے تحت ہوئی- وہ لداخ کے پانچ علاقوں میں داخل ہوئے۔ ان میں سے چار دریائے گالوان کے ساتھ اور پانچواں پینگونگ جھیل کے قریب ہے۔

 
اپریل کے آخر میں ، چینیوں کی اس علاقے میں نقل و حمل کا دیکھی گئی،لیکن ہندوستان نے اس کے خلاف کوئی سخت رد عمل نہیں اٹھایا۔ 5 مئی کو ، چینی فوجیوں نے حملے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ، 12 مئی کو ، دیم چوک، جنوبی لداخ ، اور شمالی سکم میں ناکولا میں بیک وقت کئی حملے ہوئے۔ سکم میں 200 چینی فوجی تھے ، لیکن فی الحال وقتی طور پر انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ، تازہ ترین واقعے میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں 72 ہندوستانی فوجی زخمی ہوئے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ پی ایل اے اسی طرح جنوبی لداخ کے ایک اور علاقے میں بھی تیاری کر رہی ہے۔

 
چین کے ارادوں کی سنگینی کو سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے جن میں پینگونگ جھیل سے صرف 200 کلومیٹر دور نگاری گنسا ہوائی اڈے پر نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں چھ ہفتوں کے دوران رونما ہوئیں ، ہوائی اڈے کو وسعت دی گئی اور نئے ہینگر سامنے آئے۔ مئی کے شروع میں آنے والی تصاویر میں جے 11 اور جے 16 لڑاکا طیارے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، 25 مئی کو ، چین نے اعلان کیا کہ وہ اپنے شہریوں کو ہندوستان سے وطن واپس بھیجنا شروع کر رہا ہے۔ اعلان کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کی آڑ میں کیا گیا تھا ، حالانکہ لداخ کی صورتحال کو دیکھیں تو پھر یہ ایک واضح سیاسی جہت ہے۔ 

اسی اثنا میں ، 26 مئی کو ، یہ اطلاع ملی کہ اب ہندوستانی سرزمین پر 10،000 چینی فوجی موجود ہیں۔ پی ایل اے کی ویب سائٹ پر ایک عوامی نوٹس بھی شائع ہوا جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ دریائے گالوان کی پوری وادی چین کا حصہ ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ "ہندوستانی فریق نے وادی گالوان کی لائن عبوری کی… اور یکطرفہ طور پر سرحد کی حیثیت کو تبدیل کیا۔ گالوان وادی ایک چینی علاقہ ہے ، اور مقامی کنٹرول کی صورتحال اس کی وضاحت ہے۔

ہندوستان کی طرف، لائن آف کنٹرول کے ساتھ 800 کلومیٹر کی پٹی پر محیط پانچ علاقے جن میں چومر ، دیمچوک ، پینگونگ اور دولت بیگ اولڈی کے قریب دو مقامات مستقل طور پر تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

 ہندوستانی میڈیا نے اس معاملے پر مختلف موقف اپنایا ہے۔ ہندوستان ٹائمز نے کورونا وائرس وبائی مرض کے سلسلے میں صرف لداخ کا ذکر کیا ہے ، جس سے وہاں سیاحت کی صنعت متاثر ہورہی ہے۔ اس دوران ، ٹائمز آف انڈیا چین کے مسلسل جارحانہ رویہ کے پیش نظر لکھتا ہے کہ "چین نے کچھ اضافی انفنٹری بٹالین کو لداخ میں منتقل کیا ہے۔" سفارتی مذاکرات کا بھارتی میڈیا میں کوئی ذکر نہیں ۔ چینی میڈیا نے بھی ایسا کوئی ذکر نہیں کیا۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ، چین پر جارحانہ کارروائیوں کا الزام لگاتے ہوئے ، ہندوستان نے بھی نیپال کے خلاف اب اس طرح کی مداخلت شروع کردی ہے۔ ہندوستانی ریاست اتراکھنڈ کے دھارچولہ اور نیپال میں لیپلیخ کے درمیان یکطرفہ طور پر بھارت نے سڑک کھول دی۔ یہ سڑک کالاپانی کے متنازعہ علاقے سے گزرتی ہے اور اس کا افتتاح 8 مئی کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کیا۔ نیپال کا دعویٰ ہے کہ لیپولک اس کا علاقہ ہے یہ شمال مغربی نیپال کی زمینی پٹی ہندوستان اور چین سے متصل ہے۔ نیپالی وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ ، اینگلو نیپالی جنگ کے خاتمے کے بعد 1816 کے ساگیولی معاہدے کے تحت دریائے مہاکالی کے مشرق میں تمام علاقے جن میں لمپیادھورا ، کالاپانی اور لیپلیخ شامل ہیں نیپال کا حصہ ہیں۔ 

بنیادی طور پر ، ہندوستان کو پہاڑی علاقے کیلاش تک ہندو یاتروں کو کم وقت اور بہتر سفری سہولیات کے لیے نئے راستے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ، نومبر 2019 میں ، ہندوستان کی جانب سے چھاپے گئے نئے نقشے میں ان علاقوں کو ہندوستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اسی دوران ،ہندوستان نے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا ، جس کے بعد کشمیر اور لداخ کے علاقے اپنی سابقہ حیثیت سے محروم ہوگئے۔ 

اپنے طور پر ، نیپال نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان کالا پانی کے مسئلے کو حل کرے ، لیکن ہندوستان نے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ نیپال نے بھارتی عمل پر فوری ردعمل دیتے ہوۓ 20 مئی 2020 کو ملک کے اپنے نئے سیاسی اور انتظامی نقشے شائع کیے جس میں لیپلیخ ، کالاپانی اور لمپیادھورا کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اب اس تنازعہ نے نقشہ نویسی کو بھی نئی جہت عطا کردی۔ بھارت کو بولنے پر مجبور ہوا۔ اسی دن ، ہندوستانی وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان ، انوراگ سریواستو نے کہا: "حکومت نیپال نے آج نیپال کا ایک نظر ثانی شدہ سرکاری نقشہ جاری کیا ہے جس میں ہندوستانی سرزمین کے کچھ حصے شامل کے گئے ہیں۔ یہ یکطرفہ حرکت تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔ یہ سفارتی بات چیت کے ذریعے بقایا باؤنڈری ایشوز کو دوطرفہ طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے اقدام کے منافی ہے۔ علاقائی دعوؤں میں اس طرح کی مصنوعی وسعت ہندوستان کے لیے قبول نہیں۔"
ہندوستان نے ساؤگولی کے معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا ، گویا اس کا جیسے وجود ہی نہ ہو۔ 

25 مئی کو نیپالی فوج نے بتایا کہ وہ متنازعہ ، اونچائی والے خطے میں ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ بظاہر ، فوج پہلے ہی ٹنکر اور چانگرو کے اونچائی والے دیہاتوں تک پہنچنے کے لئے ایک سڑک بنا رہی ہے۔ 

تنازعہ کی ایک اور وجہ کشمیر ہے ، جو لداخ سے متصل ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین اس خطے پر تنازعہ 1947 سے جاری ہے ، لیکن بھارت نے حال ہی میں اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ کورونا وائرس وبائی مرض نے کشمیر میں بھارتی کھیل کو جلا بخشی ہے۔ لاک ڈاؤن کے اقدامات نے جموں وکشمیر کو ایک نو گو ایریا بنا دیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام علاقے میں 900،000 کے قریب پولیس ، سیکیورٹی اور فوجی اہلکار موجود ہیں۔ در حقیقت ، یہ دنیا کا سب سے زیادہ عسکری خطہ ہے۔ اور فروری 2019 میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ، جس میں ہندوستانی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ سرحدی خلاف ورزی پر پاکستان نے مار گرایا گیا تھا ، دونوں ممالک کے مابین جنگی تناؤ نئی بلندیوں کو پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار پائلٹ بھارت کے حوالے کردیا ،لیکن نئی دہلی نے اپنے اختلافات کو مزید حل کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں دکھائی۔

 تنازعات کی یہ پوری گٹھ خطے میں بڑے پیمانے پر دھماکہ خیزی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ، چین اور پاکستان ہندوستان کے خلاف دیرینہ اتحادی ہیں ، جبکہ بیجنگ، نیپال کی بھی پھر پور حمایت میں سرگرم عمل ہے ، اور نئی دہلی کو اپنے حق میں توازن بدلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ یہ صورتحال، ہندوستان کے خلاف سہ فریقی اتحاد کی تشکیل کا سبب بن سکتی ہے یہ اتحاد بین الاقوامی پلیٹ فارم کے استعمال سمیت بھارت کے خلاف مربوط کاروائیوں کا موجب ہوسکتا ہے۔ پچھلے تنازعات کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں (خاص طور پر ، کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لیے ریفرنڈم کی ضرورت) ناکامی کا شکار ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ اب صورتحال کیا بنتی ہے۔ امکانات یہ ہیں کہ مستقل کے واقعات کا انحصار چاروں ممالک کے رہنماؤں کی بصیرت ، منطق اور ان کے فیصلوں پر مبنی ہے۔