شنگھائی تعاون تنظیم کو درپیش چیلنج اور نیٹو

14.06.2019

شنگھائی تعاون تنظیم کا دوروزہ انیسواں اجلاس کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہورہا ہے۔ اجلاس میں تنظیم کے ممبر ممالک کے سربراہان شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ خطے کو درپیش چیلنجز اور عالمی افق پر اقتصادی جنگ کے منڈلاتے خطرات کے پیش نظر سربراہان تنظیم کی اس بٹھیک کو انتہائی اہم گردانا جارہا ہے۔

شنگھائی تعاون اس خطے کا سب سے مظبوط اور فعال سیاسی ، اقتصادی اور سیکورٹی اتحاد ہے۔ مغربی جغرافیائی پنڈت اس اتحاد کو نیٹو کا متبادل تصور کرتے ہیں اور اس کی خطہ جاتی توسیع سے خائف ہیں۔

شنگھائی تعاون اتحاد کے معمار روس اور چین نے اس کی موثر فعالیت کےلیے ہردم سرگرم ہیں وہ اس اتحاد کے زریعے خطے کے ممالک کو باہمی تنازعات کو حل کرنے کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال روس اور چین خود ہیں انہوں نے اس اتحاد کو قائم کرتے ہوۓ اپنے بارڈرز اور دیگر سالوں پرانے تنازعات کو باہمی طور پر حل کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔

دوبرس قبل اس تنظیم کے ممبر ممالک روس، چین، کرغیزستان، قزاقستان، ازبکستان اور تاجکستان نے جنوبی ایشیا کے حریف ممالک بھارت اور پاکستان کو بیک وقت اس اتحاد میں شامل کرکے انہیں باہمی تنازعات کو ختم کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔

دوہزار پندرہ میں روس کے شہر اوفا میں ہونے والے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم نے بھارت اور پاکستان کو باقاعدہ تنظیم کی فل ممبرشپ دی اور دونوں ممالک کو پابند کیا کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو کم کرکے خطے کی اجتماعی ترقی و بہبود کے لیے کام کریں گے۔

یہ سہرا اس تنظیم کو ہی جاتا ہے کہ باہمی روایتی دشمنی کے باوجود پہلے بھارت اور چین اور پھر بھارت اور پاکستان کی افواج نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کیں۔ اور یہ مشقیں اب ہرسال باقاعدگی سے منقعد ہوا کریں گی۔

ان کا مقصد روایتی حریف ممالک کی افواج کے درمیان حائل دوریوں کو ختم کرکے انہیں امن کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے تمام ممالک کی افواج کے درمیان بھی فوجی مشقیں سالانہ بنیادوں پر منعقد کراکے اس خطے کے مشترکہ تحفظ کی ذمہ داری کو بھی پروان چڑھایا جارہا ہے۔ تاکہ مغربی استحصال اور اس کی ممکنہ عسکریت سے خطے کو بچایا جاسکے۔

اس لیے تو نیٹو اب اس طاقتور اتحاد سے خوف زدہ ہیں اور اس کو توڑنے یا ناکام بنانے کا ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارت-چین  اور بھارت -پاکستان کی روایتی دشمنی کو امریکی سامراج نے ابھارتے ہوۓ بھارت کو آمادہ کیا جارہا ہے کہ وہ اس میں روڑے اٹکائے۔

امریکی قانون سازوں نے تجویز دی ہے کہ بھارت کو نیٹو کا نان ممبر اتحادی بنا کر اس کھیل کو انجام دیا جاسکتا ہے تاہم بھارتی قیادت جو ہر طرف کھیلنے کا خوب گر جانتی ہے اب یہ اس کے لیے امتحان ہوگا کہ وہ کس طور پر توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

روس اور چین اس شنگھائی تعاون اتحاد کو یوریشین اقتصادی یونین اور شاہراریشیم کے عالمگیر منصوبے کا محافظ بنانا چاہتے ہیں اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ برکس BRICS اقتصادی بلاک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ کی گئی کمٹمنٹس پر اکتنا پورا اترتا ہے۔  نیٹو کا نان ممبر اتحادی روس کے لیے ناقابل قبول ہوگا کیونکہ روس  نیٹو کا سب سے بڑا حریف ہے۔ تاہم روس کے صدر ولادیمیر پوٹن  بھارت کے نریندرا مودی کو اس کثیرقطبیت کے ساتھ چلانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ 

اب اس انیسویں اجلاس سے بہت زیادہ توقعات وابسطہ ہیں کیونکہ عالمی افق پر ہونے والی جغرافیائی تبدیلیاں ، تیسری عالمی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات، نیٹو کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک میں داعش کی تنصیب، چین اور روس کے ساتھ امریکی سامراج کی اقتصادی اور سائبر جنگ اس خطے کے مسقبل پر ان مٹ اثرات مرتب کریں گی۔ دیکھنا اب یہ کہ ان خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے بشکیک میں ان سربراہان کی بیٹھک کیا موثر خطہ جاتی میکانیزم مرتب کرتی ہے۔