آزادی مارچ دھرنےکا آغاز: وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی مہلت

Friday, 1 November, 2019 - 16:36

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے 27 اکتوبر کو سندھ سے شروع ہونے والا ’آزادی مارچ‘ اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے متعین جلسہ گاہ میں گزشتہ رات سے پہنچ چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مقامی قیادت نے شہر شہر استقبال کیا۔ مولانا فضل الرحمان بھی جگہ جگہ کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ آزادی مارچ کا کراچی سے اسلام آباد تک کا ساڑھے چودہ سو کلومیٹر کا طویل فاصلہ پانچ روز میں طے ہوا۔ مرکزی قافلہ جے یو آئی (ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اتوار کی سہ پہر تین بجے شہر قائد سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔

کراچی سے چلا قافلہ حیدر آباد، مٹیاری، نوابشاہ، نوشہرو فیروز اور خیر پور سے ہوتا ہوا سکھر پہنچا جہاں پہلی رات پڑاؤ کیا۔ پیر کی صبح کاررواں سکھر سے گھوٹکی، صادق آباد، رحیم یار خان اور اوچ شریف سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا۔

منگل کو قافلے نے ملتان سے خانیوال، میاں چنوں، چیچہ وطنی، ساہیوال، اوکاڑہ اور پتوکی سے لاہور کا رخ کیا۔ رات بسر کرنے کے بعد صبح قافلہ منزل کی طرف گامزن ہوا۔

زندہ دلان شہر سے قافلہ مرید کے، گوجرانوالہ، گجرات، کھاریاں، جہلم اور گوجر خان پہنچا جہاں رات قیام کی۔ آزادی مارچ کے شرکا نے بھی مختلف انداز اپنائے کسی نے سیلفی بنائی تو کوئی کرین پر چڑھ کر شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا نظر آیا۔ جے یو آئی قیادت کنٹینر پر موجود رہی اور صلاح مشورے بھی ہوتے رہے۔

پشاور سے اے این پی بھی ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ اسلام آباد دھرنے میں اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ پہنچی۔ مولانا فضل الرحمان کے قافلے کے پہچنے سے قبل پیپلز پارٹی کے چیرمین نے دھرنے سے رات گئے خطاب کیا۔

بلاول نے جلسہ گاہ میں موجود حاضرین سے خطاب میں کہا کہ وہ آزادی مارچ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کر کے فخر محسوس کر رہےہیں۔

’جس بہادری کے ساتھ آزادی مارچ کراچی مسے چلا اور شہر شہر گاؤں گاؤں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا، آپ نے مل کر وزیر اعظم کو متفقہ پیغام پہنچا دیا کہ ملک کے عوام نہ کسی سلیکٹڈ وزیر اعظم کو مانتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی سلیکٹر کے سامنے سر جھکانے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا عوام صرف جمہوریت چاہتی ہے لیکن جمہوری نظام پر حملے ہو رہے ہیں، آپ کے اور ہم سب کے جمہوری حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

’الیکشن میں سلیکشن ہو رہی ہے، دھاندلی ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک نالائق کو سلیکٹ کر کے وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے، اس ایک سال کے بعد کٹھ پتلی حکومت کا کردار آپ کے سامنے ہے۔‘

انہوں نے کہا سلیکٹڈ حکومتیں کبھی عوام کا خیال نہیں رکھتیں۔ ’ملک کی ساری سیاسی جماعتوں نے مل کر پیغام پہنچا دیا کہ وقت آ ن پہنچا کہ وزیر اعظم عمران خان کو جانا پڑے گا۔‘ آخر میں انہوں نے ’گو سلیکٹڈ‘ کے نعرے بھی لگوائے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں،جادو ٹونے سے وزرا کی تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔آ ج ہمیں حکومت مل جائے تو چھ ماہ میں ملک کے حالات تبدیل کردیں گے،اگر ایسا نہ ہوسکا تو میرا نام’’عمران نیازی‘‘ رکھ دینا۔

انہوں نے کہا کہ مغرور شخص چند دن اور رہ گیا تو ملک تباہ ہوجائے گا،پارلیمنٹ اس کو تبدیل کرے۔

اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکمران میڈیا پر آزادی مارچ کا بلیک آئوٹ کرکے توہین عدالت کررہے ہیں،ہم آگے بڑھیں گے،انگریزوں سے آزادی حاصل کرلی تو یہ کیا چیز ہیں،الیکشن ہم جیتے حکومت عمران خان کو دی گئی،ہمارا ووٹ چوری ہوا ہے،ہم عمران خان سے استعفیٰ لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بغل بچے کو بچا سکتے ہوتو بچا لو۔ہمیں کہا جاتا ہے آپ نے کشمیر ڈے پر آزادی مارچ کیوں کیا، ہم کہتے ہیں کشمیر بھی آزادی چاہتا ہے،ہم بھی آزادی چاہتے،ظالم حکمرانوں سے آزادی چاہتے ہیں،تم کرتار پور راہداری کھول رہے ہو تو افغانستان کا راستہ بھی کھولو۔

رہنما جے یو آئی عبدالغفور حیدر ی نے جلسے کے شرکاسے خطاب میں کہا کہ عمران خان لبنان کے وزیراعظم کی طرح عوام کی آواز سنیں اورکابینہ سمیت مستعفی ہوجائیں۔ عمران خان یاد رکھیں یہ ایک یا دو دن کا دھرنا نہیں بلکہ یہ تحریک ہے جسے انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کب تک ملک اور عوام کو جھوٹ کی بنیاد پر چلاتے رہیں گے۔ ہ آج جلسے کے بعد قائدین آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن کے مشترکہ جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستانی قوم کا اجتماع ہے۔ عوام جس جذبے کیساتھ آئے، ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ دنیا اس اجتماع کو سنجیدگی سے لے، ہم انصاف چاہتے ہیں۔ پاکستان پر صرف عوام کا حق ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں عدل وانصاف کا نظام چاہتے ہیں۔ 2018ء کے الیکشن دھاندلی کے ذریعے ہوئے۔ حکومت کو جانا ہوگا، ہم نے انھیں بہت مہلت دے دی۔ انھیں غریبوں، مزدوروں اور پاکستان کے عوام کیساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دعویٰ کیا گیا کہ 50 لاکھ گھر بنا کردیں گے لیکن 50 لاکھ سے زیادہ گھر گرا چکے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرکے 25 لاکھ کو بیروزگار کر دیا گیا۔ کرپشن کا خاتمہ تو دور کی بات، ایک سال میں اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔ عوام موجودہ حکومت سے آزادی چاہتے ہیں۔ آج پوری قوم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہے۔ ان کی نااہلی سے ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ جس ریاست کی معیشت تباہ ہو جائے، وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ معیشت تباہ ہوئی تو سویت یونین اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے، اور وہاں کی عوام کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، ہم کشمیریوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ انھیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

اپنے خطاب میں حکومت کے دعوؤں اور وعدوں پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہتے تھے باہر سے لوگ نوکری کے لیے آئیں گے، تاہم آئی ایم ایف کے 2 بندے ضرور پاکستان میں آئے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں بھارت سے کشیدگی ہے تو دوسری طرف ان کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ آج اسرائیل کوتسلیم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں حالانکہ اسرائیل وجود میں آیا تو اس نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد پاکستان کے خاتمے پر رکھی۔

انہوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے لیکن ہمارے مطالبے نہ مانے گئے تو پھر کسی پابندی کے پابند نہیں ہوں گے۔ عوام کا یہ سمندر قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو گرفتار کرلے۔ ہم مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ دو دن کی مہلت دیتے ہیں، وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ دو دن کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دینگے۔