بولیویا کے صدر ایوومورالس نے نیۓ انتخابات کا اعلان کردیا

Sunday, 10 November, 2019 - 18:51

صدر ایوومورالس نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ بولیویا میں حالات اس وقت سے بگڑنا شروع ہوۓ جب گزشتہ مہینے 20اکتوبر کو انتخابات میں ایوومورالس کامیاب ہوئے تھے۔

بولیویا کے صدر نے گزشتہ رات ملک بھر میں پر تشدد مظاہرے اور کشیدگی کے باعث اتوار کو نئے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ بولیویا کی حکومت کے مطابق دائیں بازو کی حزب اختلاف نے ان مظاہروں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے۔

لاپاز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مورالس نے کہا ہے کہ ملک کی انتخابی باڈی کو مکمل طور پر بدل دیں گے۔ سپریم انتخابی ٹربیونل کے تمام ممبران نیۓ تعینات کیے جائیں گے تاکہ وہ نئے انتخابات کراسکیں۔

صرر نے مظاہرین کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوۓ کہا کہ ہم سب کی زمہ داری ہے کہ بولیویا کو پر امن بنائیں۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری و نجی املاک کی حفاظت سب کی زمہ داری ہے۔ ہماری یہ روایت نہیں کہ ہم اپنے ہی لوگوں کے خلاف ہوجائیں۔

نئے انتخابات کا اعلان آرگنائزیشن آف امریکن سٹیٹس (OAS) کی 20 اکتوبر کے انتخابات سے متعلق آڈٹ رپورٹ کے بعد آہی آیا جس میں نئے انتخابات کی سفارش کی گئی تھی۔ جس کے بعد حزب اختلاف کا صدر پر دباؤ بڑھ گیا۔

گزشتہ رات حزب اختلاف نے دوگورنر اور صدر ایوومورالس کے گھروں پر دھاوا بولا اور گھروں کو جلادیا۔ سرکاری ٹی وی پر قبضہ کرکے اسکی نشریات 8 گھنٹے تک بند کردیں۔

جبکہ صدر ایوومورالس کے حمایتی بھی ملک بھر کی سڑکوں پر نکل آۓ اور انہوں نے جمہوریت اور آئین کی ہرممکن حفاظت کا اعادہ کرتے ہوۓ دائیں بازو کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کو ناکام بنایا۔ تاہم اب صدر کی جانب سے دو بارہ انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے۔