پاکستان میں ٹرین حادثہ: ٹرین میں آگ لگنے کے باعث 70 افراد ہلاک

Thursday, 31 October, 2019 - 11:49

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 70 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔

بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا۔قبل ازیں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جاں بحق افراد میں سے کسی کی بھی اب تک شناخت نہیں ہوسکی۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کی شدت بہت زیادہ تھی جس نے تیزی سے ساتھ کی بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید ہسپتال، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا جبکہ ضلع بھر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور آتشزدگی کی لپیٹ میں آنے والی 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھی۔متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔حکام کے مطابق چلتی ٹرین سے ریلوے ٹریک کے قریب پتھروں پر کودنے کے باعث زیادہ مسافر زخمی ہوئے جن میں 3 سے 4 خواتین بھی شامل ہیں۔
حادثے کے بعد سب سے پہلے مقامی افراد نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 13 افراد ٹرین سے چھلانگ لگانے اور مختلف وجوہات کی بنا پر جبکہ مجموعی طور پر 64 افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوئے۔
بعدازاں ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کوچز میں مہراب پور نواب شاہ اور حیدرآباد سے مسافروں سوار کروایا گیا۔
اس کے ساتھ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے باقی چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں۔
انہوں نے کہا ریلوے میں یہ روایت موجود ہے کہ تبلیغی جماعت کے لیے امیر کے نام پر بوگی بک کرلی جاتی تھی جبکہ ہر مسافر کی تفصیلات نہیں لی جاتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ٹرین کی اکانومی کلاس میں موجود 2 سلنڈر پھٹنے سے بوگیوں میں آگ لگی، جس پر تبلیغی جماعت کے افراد ناشتہ بنارہے تھے اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 گھنٹے میں ٹریک بحال کردیا جائے گا.

حادثے کے سبب دیگر ٹرینوں کو ان کے قریبی اسٹیشنز پر ہی روک دیا گیا جبکہ اسی ٹریک پر آنے والی زکریا ایکسپریس کو لیاقت پور سے قبل خان پور اسٹیشن پر روکا گیا۔دوسری جانب ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے۔

خبریں

24.04.2020 - 19:27