روس کے ساتھ اتحاد ترکی کے مفاد میں ہے، راۓ

Sunday, 30 June, 2019 - 20:52

ترکی کے وزیر دفاع Hulusi Akar نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے روسی ساختہ ایس –400 دفاعی نظام کی فراہمی کی تاریخ تو نہیں بتائی لیکن انہوں نے کہا کہ  2,5 ارب ڈالر کی ڈیل قریب الوقوع ہے۔ پوتین اور اردگان کے درمیان معاہدہ ستمبر 2017 میں ہوا اور توقع کی گئی کہ 2020 تک ایس–400 دفاعی نظام ترکی پہنچ جاۓگا۔ لیکن جب اپریل 2019 میں دونوں رہنما ملے تو طے پایا کہ جتنی جلد ممکن ہو یہ نظام ترکی کو فراہم کردیا جائے۔

روس نے ترکی کو جدید ترین فاتح 4،  ADMSs, 40N6 میزائلوں کے ساتھ ترکی کے ماہرین کو تربیت اور 55فیصد ادائیگی کی پیشکش کی ہے جبکہ ترکی امریکہ کے ساتھ دفاعی تجارت کو ختم کرسکتا ہے۔ واشنگٹن اس پر آنکھیں بند نہیں کرسکتا بلکہ اس نے نئی نسل کے ایف -35 طیاروں کی فراہمی سے انکار کرتے ہوۓ ترکی کے ساتھ جاری بڑے پیمانے پر اقتصادی تنازعہ کو ختم کرنے سے بھی یکسر انکار کردیا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ترکی پر پابندیوں کا اطلاق کرتا ہے تو ترکی اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔ یوریشیائی ممالک سے اتحاد کرکے ترکی ایک تیر سے دو شکار کرے گا کیونکہ اس سے اس کو علاقائی اور اقتصادی دونوں فوائد حاصل ہونگے۔

ترکی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

اگرچہ ترکی نیٹو کا ممبر ہے لیکن اسے پہلی دفعہ روس جیسے ملک کے ساتھ کاروبار کرنا پڑ رہا ہے جو نیٹو کا ممبر تو نہیں بلکہ اس کا حریف سمجھا جاتا ہے۔2017 میں جب گفتگو کا آغاز ہوا تو متعدد ماہرین کا خیال تھا کہ کہ ترکی کا روس کے ساتھ یہ کاروباری معاہدہ منطقی انجام کو نہیں پہنچے گا کیونکہ اس کا مقصد ہی صرف نیٹو کو یہ دکھانا ہے کہ ترکی اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی سمت کا خود تعین کر سکتا ہے۔ چونکہ ترکی اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نیٹو کے علاوہ کسی بھی ملک کے ساتھ اپنا اتحاد قائم کر سکتا ہے۔واشگنٹن ترکی کے اس اقدام سے خوش نہیں ہے اس لیے اس نے ترکی کے خلاف شامی کردوں کی حمایت سے دستبرداری اختیار نہیں کی کیونکہ کردوں نے ترکی پر جنگ نافذ کر رکھی ہے ۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ترکی پر پابندیوں کا اطلاق نیٹو کے ان ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دے گاجو امریکہ کے لیے کام نہیں کرتے۔ ترکی کے مؤرخ Mehmet Perinçk کے بقول امریکہ اب ترکی کو دبا نہیں سکتا کیونکہ وہ اب بہت کمزور ہوچکا ہے اس کا رعب پہلے جیسا نہیں رہا۔

 

تین وجوہات کی بنیاد پر امریکہ ترکی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے، پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں کو ترکی کے خلاف بھرپور تعاون فراہم کر سکتا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ یونان اور جنوبی سائپرس میں ترکی کے بارڈر کے ساتھ فوجی مشقوں کے زریعے نیا محاذ کھول سکتا ہے۔مزید برآں یہ کہ تین سال پہلے امریکہ نے ترکی میں عوامی بغاوت کو بھی ہوا دی تھی۔ وہ ترکی کو زیر عتاب لانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔لیکن عراق اور مشرقِ وسطیٰ میں ناکامی, اسد حکومت کا تختہ الٹنے میں مایوسی، اور شمالی کوریا کے محاذ پر شکست امریکی کمزوریوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ لہذا ترکی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

 

ایس–400 کی خریداری پالیسی فیصلہ ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ Mevlüt Çavusoglu نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ سے سامان حرب کی خریداری میں ناکامی کی وجہ سے روس کے ساتھ ڈیل کی ہے۔ امریکہ کے ساتھ ڈیل میں "پٹریاٹ" ADMS (ہوائی دفاعی نظام) بھی شامل تھے اور اس ڈیل کا مجموعی حجم 3,5 ارب ڈالر تھا۔تاہم اقتصادی پابندیوں کے باعث ترکی اس سودے میں کچھ رعایت کا منتظر تھا اور تقریباً دس سال تک امریکہ سے مزاکرات چلتے رہے لیکن ناکامی ہوئی اور وقت کی ضرورت کے پیش نظر ترکی کو متبادل کی طرف دیکھنا پڑا۔ روس نے ترکی کے مفاد میں ڈیل کی پیشکش کی۔

ترکی کے مؤرخ Perinçk نے جیوپالٹیکا Geopolitica.com کو بتایا کہ ترکی کا ایٹلانٹ ازم کو خیر باد کہہ کر یوریشیا سے اتحاد روس کے لیے فایدہ مند ہے۔ ترکی ایس–400 صرف اس لیے خرید نہیں کررہا ہے کہ یہ بہترین دفاعی نظام ہے بلکہ یہ ترکی کا پالیسی فیصلہ بھی ہے۔ امریکہ کی جانب سے کردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی اور خطے میں امریکہ کا کردوں کے ساتھ اتحاد ترکی کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہے ۔ترکی کی جانب سے یوریشن ممالک بشمول روس کے ساتھ اتحاد سے سے اس کے اقتصادی اور قومی سلامتی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ترکی امریکہ کے ساتھ ساتھ تجارت کو ختم کر دےگا لیکن ترکی کا یہ اقدام امریکہ کے لیے مشکلات میں اضافہ ضرور کرے گا۔ اگر فوجی آپریشن ہوتا ہے تو امریکہ کے لیے کردوں کو امداد دینا مشکل ہو جائےگا کیونکہ ایس–400 کی تنصیب سے امریکی کے جہازوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ روس کے ساتھ دفاعی ڈیل کی وجہ سے روس نہ صرف ترکی کے قومی مفادات کا دفاع کرے گا بلکہ ٹرمپ کی جانب سے اردگان پر دباؤ بھی زائل کرے گا جس سے امریکہ کی نیٹو میں پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔